ابنا: قبل ازیں اس سے پہلے معمرقذافی کی فوجوں نے اس شہر پر شدید حملے اور بمباری کے بعد اس کو انقلابیوں کے قبضے سے واپس لے لیا تھا۔
اجدابیا شہر پر انقلابیوں نے ایک ایسے وقت اپنا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے جب ان پر لیبیا کی فوج بھی حملہ کررہی ہے اور نیٹو کے ہوائی حملوں میں بھی رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
دریں اثناء ترکی کے صدر عبداللہ گل نے لیبیا پر مغربی ملکوں کے حملوں کے پس پردہ مقاصد کی بابت خبردار کیا ہے ۔
عبداللہ گل نے کہا کہ لیبيا پر مغربی ملکوں کے ہوائی حملوں کا مقصد اس ملک کے عوام کو آزادی دلانا ہرگز نہیں ہے ۔
انہوں نے کہا کہ جن ملکوں نے برسہا برس سے لیبیا کے آمر کی حمایت کی ہے اب انہوں نے اچانک اپنا موقف تبدیل کردیا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ خدشہ اس بات کا ہے کہ لیبیاء کا انجام بھی عراق جیسا ہوسکتا ہے ۔
تر ک صدر نے کہا کہ ترکی لیبیا میں خونریزی اور اس کے حصے بخرے کئے جانے کے حق ميں نہيں ہے لیکن وہ اس ملک کی موجودہ حکومت کی بھی حمایت نہیں کرتا عبداللہ گل نے لیبیا کے ڈکٹیٹر معمرقذافی سے کہا کہ وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائيں ۔
ترک صدر نے کہا کہ قذافی کو چاہئے کہ وہ ملک میں اقتدار کی منتقلی کا دروازہ کھول کر مزید خونریزی کو بند کریں ۔
دوسری طرف سے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ لیبیا پر نیٹو کا حملہ معمرقذافی کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے نہیں ہیں۔
بان کی مون نے یہ قیاس آرائی باطل ہو کر رہ گئی ہے کہ یہ حملہ معمرقذافی کو ہٹانے کے لئے ہے۔
بان کی مون نے دعوی کیا ہے کہ ان حملوں کا مقصد عام شہریوں کو نجات دلانا ہے!۔
بان کی مون کا یہ دعوی ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ کی سرکردگی میں نیٹو کے حملوں میں اب تک بڑی تعداد میں لیبیا کے عام شہری مارے گئے ہيں۔
ادھر الجزائر کی حکومت نے قذافی کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کے لئے مغربی ملکوں کے طیاروں کو اپنی فضائي حدود سے گذرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا ہے۔
روزنامہ القدس العربی نے لکھا ہے کہ الجزائر کی حکومت نے مغربی ملکوں کے طیاروں کو لیبیا کے ڈکٹیٹر کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کرنے کے لئے اپنی فضائي حدود سے گذرنے کی مخالفت کی ہے۔ یہ طیارے امریکہ اسپین اور برطانیہ کے ہوائی اڈوں سے اڑنے کے بعد الجزائر کی فضائی حدود سے گذرتے اور لیبیا پر حملے کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110